topis coloums articles on islamic christian atheist views and criticizm to reform the world
here are different articles colums and views on different religious and non non religious cultures.and finding the perfection for humanity islam bhudhism christian geeks hindus atheist
Wednesday, September 21, 2016
Tuesday, September 20, 2016
mulla munafiq
کشمیر کی خودمختاری سے پاکستان کی دس لاکھ فوج اورانڈیا کی دس لاکھ فوج بیروزگار ھو جاے گی لاکھوں ٹن اسلحہ کباڑ خانوں میں تول کر بکے گا لاکھوں مولوی اور پنڈت بھوک سے تنگ آ کر ہاتھوں سے محنت کریں گے
Sunday, September 18, 2016
women and sex
سماج کا جنگلا
میٹرک پاس کرنے کے بعد مجھے کراچی کے مشہور کامرس کالج میں داخلہ ملا۔ یہ اپنے زمانے کے ان آخری کالجوں میٕں سے تھا جہاں Co education تھی اور اپنے تعلیمی معیار کے علاوہ وہاں دستیاب "حسن" کی وجہ سے بھی یہ کالج لڑکوں میں بہت مقبول ہوا کرتا تھا۔
مگر جس سال میں نے اس کالج میں کلاسز لینا شروع کیں تو اسی سال انتظامیہ نے Co-education ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی کلاسیں الگ کر دی گئیں، کالج کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا اور دونوں حصوں کے بیچ میں ایک لوہے کا جنگلا لگا دیا گیا۔
اس جنگلے کو ہم لوگ پیار سے "سماج کا جنگلا" کہا کرتے تھے۔ اس جنگلے میں سے لڑکیوں سے بات کرنا یا ان کو پھول پیش کرنا تو ممکن نہ تھا مگر ان کو دیکھا ضرور جا سکتا تھا۔ بالکل ایسے ہی جیسے چڑیا گھر میں انسان جانوروں کو دیکھتا ہے۔
مشرقی تہذیب کے اس جنگلے کے خلاف لڑکوٕ ں نے احتجاج بھی کیا اور بھوک ہڑتال بھی کی۔ لیکن جب مشرقی تہذیب باز نہیں آئی تو لڑکوں نے دیواروں پر احتجاجی نعرے لکھ لکھ کر کالج کا پینٹ برباد کر ڈالا۔
لڑکیوٕں کو بھی اپنے آپ کو "تڑوانے" کا اتنا شوق تھا کہ سب میک اپ کر کے آتی تھیں اور سماج کے جنگلے کے سامنے سے فیشن پریڈ کرتی ہوئی گزرا کرتی تھیٕں۔ حالانکہ کالج بہت بڑا تھا مگر تمام لڑکے اسی سماج کے جنگلے سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے تھے اور لڑکیوں کی فیشن پریڈ دیکھتے تھے۔
ایک بار ہمارے پرنسیپل صاحب نے ایک لڑکے کو جنگلے میں سے لڑکیوٕں کو تاڑتے ہوئے دیکھا تو بولے، "میاں یہ کوئی طریقہ ہے؟ کیا تمہارے گھر میٕں ماں بہنیں نہیں ہیں؟"
لڑکے نے جواب دیا، "سر! ماں بہنیں تو ہیں مگر بیوی نہیں ہے۔"
اس کے بعد وہ لڑکا کئی روز تک کالج میں نظر نہیں آیا۔ شاید پرنسپل صاحب نے اسے کچھ عرصے کے لیے معطل کر دیا تھا حالانکہ کہا اس نے سچ تھا۔
اس کے جملے کو اگر گستاخی کے بجائے حقیقت کے اظہار کے طور پر دیکھا جائے تو اس کا مدعا یہی تھا کہ میں شادی کرنا چاہتا ہوں، ایک خاندان آباد کرنا چاہتا ہوں اور آپ نے میرے اس مقصد کی راہ میں یہ سماج کا جنگلا کھڑا کر دیا ہے۔
ایک دن امتحان کے بعد بہت سی لڑکیاں کالج کی یونیفارم کے بجائے رنگ برنگ کپڑے پہن کر اپنے رپورٹ کارڈ وصول کرنے آئی تھیں۔ جنگلے کے اس پار فیشن پریڈ زوروں پر تھی سو اس رو کچھ زیادہ ہی لڑکے سماج کے جنگلے سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔
اس دن سماج کا جنگلا نوجوان نسل کا بوجھ نہ اٹھا سکا اور اس کی بنیادیں اکھڑ گیں۔ پھر خاندان آباد کرنے کے یہ تمام خواہش مند، جنگلے سمیت مشرقی تہذیب کے چبوترے پر جا گرے۔
اس "حادثے" کی آواز اس قدر زوردار تھی کہ تمام عوام کلاسوں سے باہر آگئی اور ہم سب نے ان لڑکوں کو پتلونوں پر سے دھول جھاڑتے ہوئے دیکھا اور ان کا خوب مذاق بھی اڑایا۔
اس کے بعد کالج کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ سماج کے جنگلے کی جگہ ایک پختہ دیوار ہونی چاہیے جسے لڑکے گرا نہ سکیں۔ اس فیصلے کے بعد لڑکوں نے لڑکیوٕں سے ملنے کے تمام ارادے ترک کر دیے اور فحش فلموں کو اپنا لیا۔ یہ فلمیں کراچی کے 'رینبو سینٹر' سے ملا کرتی تھیں اور ان سے مشرقی تہذیب کی ناک نہیں کٹتی تھی۔
انٹر پاس کرنے کے بعد جب میں کینیڈا گیا تو وہاں میری یونیورسٹی میں سماج کے جنگلے نہیں لگے ہوئے تھے۔ لڑکوں اور لڑکیوٕں کو آپس میں ملنے سے کوئی استاد نہیں روکتا تھا۔ وہ اکثر ساتھ گھومتے پھرتے نظر آتے تھے۔ میں نے جب پہلی بار اس قسم کا ماحول دیکھا تو مجھے لگا کہ یہ بنیادی طور پر وہی معاشرہ تھا جس کو ہم اپنے ہاں روکنا چاہتے تھے۔
اس وقت میں نے ارادہ کیا کہ میں یہاں چار سال گزار کر یہ دیکھوں گا کہ اگر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان میں سے سماج کا جنگلا نکال دیا جائے تو یہ دونوں ساتھ مل کر کس قسم کا معاشرہ وجود میں لاتے ہیں؟
ہمارے مشرقی بزرگ کہا کرتے تھے کے سماج کا جنگلا نہ ہو تو معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں، نسلیں برباد ہو جاتی ہیں۔ مگر کینیڈا کیوں تباہ نہیں ہوا؟ امریکہ کیوں تباہ نہیں ہوا؟ یہ سب قومں کیوں فنا نہیں ہوئیں؟
مشرقی تہذیب نے مجھے اتنی عقل ہی نہیں دی تھی کہ میں تہزیب کے بزرگوں سے یہ پوچھتا کہ آج آپ کیوں تباہ ہوئے ہیں؟ آپ کی نسلیں کیوں برباد ہوئی ہیں؟ اگر بجلی بند ہوتی ہے تو آپ کی ہوتی ہے، پانی بند ہوتا ہے تو آپ کا ہوتا ہے، دہشت گردی بڑھتی ہے تو وہ آپ کے ہاں بڑھتی ہے، لوگ بھوکے مرتے ہیں تو وہ بھی آپ کے ہاں مرتے ہیں۔ زلزلے اور سیلاب بھی آپ ہی کی ہاں آتے ہیں۔ مسائل دنیا میں ہر جگہ ہوتے ہیں مگر مشرقی تہذیب کے مسائل کی فہرست کچھ زیادہ لمبی نظر آتی ہے۔ وہ کون سی آسمانی یا انسانی آفت ہے جس سے آپ کو اس سماج کے جنگلے نے بچا یا ہو؟
تہذیب کا کمال یہ ہے کہ جن سوالات کا اس کے پاس جواب نہیں ہوتا یہ انہیں ذہنوں میں جنم ہی نہیں لینے دیتی۔ جب مشرقی تہذیب سے سماج کے جنگلے کے فوائد کے بارے میں بہت زیادہ سوالات کیے تو وہ بولی کہ اللہ میاں کو سماج کے جنگلے بہت پسند ہیں۔
جو سوال یہاں پیدا ہونا چاہیے وہ یہ کہ فرنگی ان سماج کے جنگلوں کی پرواہ کیے بغیر جب حیا کے دوپٹوں کو پیروں تلے روند کر انسان پیدا کرتا ہے تو اللہ میاں اسے آئن اسٹائن عطا کرتے ہیں، نیوٹن اور سٹیفن ہاکنگ بخشتے ہیں۔
اور مشرقی تہذیب جب سماج کے جنگلے گاڑھ گاڑھ کے انسان پیدا کرتی ہے تو یہ کرپشن اور بے ایمانی کے تمام عالمی ریکارڈ توڑ ڈالتے ہیں۔ میں نے اللہ میاں سے بار بار پوچھا کہ اللہ میاں! آپ کو یہ سماج کا جنگلا کیوں اچھا لگتا ہے؟ کیا آپ نے امریکہ نہیں دیکھا؟ کیا آپ نے کینیڈا نہیں دیکھا؟ آپ کو ایسے معاشرے کیوں پسند ہیں جہاں بنیادی انسانی خواہشات کو کچل دیا گیا ہو اور انسان کی primary biological drives کے رستے میں سماج کے جنگلے لگا دیے گئے ہوں؟ کی سال میں نے اللہ میاں سے یہ سوال کیا مگر آسمان سے کوئی جواب نہیں آیا۔ اس کے بعد ایک دن مجھے زور دار آواز سنائی دی۔
جھوٹ بولتی ہے تم سے یہ مشرقی تہذیب !
یہ آواز اتنی زوردار تھی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ یہ آواز Fredrick Nietzsche کی تھی۔ یہ وہ جرمن فلسفی تھے جنہوں نے عیسائیت سے وہی سوال کیا تھا جو میں اپنے اللہ میاں سے کر رہا تھا۔ یعنی عیسائی مذہب کا خدا اجازتیں دے کر بھی تو اپنا وجود ثابت کر سکتا ہے۔ پھر آخر اس نے ممانعت اور impulse deprivation کی تعلیم کیوں دی؟ سماج کے جنگلے کیوں لگائے؟
یہ Nietzsche کا عیسائیت پر کتنا شدید حملہ تھا، اس کا اندازہ آپ ان کی اپنی تحریروں سے ہی لگا سکتے ہیں۔
Christianity was from the beginning, essentially and fundamentally, life's nausea and disgust with life, merely concealed behind, masked by, dressed up as, faith in another" or "better" life.
Nietzsche's The Birth of Tragedy, p.23, Walter Kaufman۔
مزے کی بات یہاں یہ ہے کہ علامہ اقبال اپنی اسلامی سوچ میں Fredrick Nietzsche سے بہت متاثر رہے تھے۔ Neitzsche کی دو کتابوں Will to Power اور Thus Spoke Zarathustra نے علامہ اقبال کی سوچ پر اتنے گہرے اثرات چھوڑے تھے کہ علامہ نے اپنے مرد مومن کا تصور بھی انہی سے اخذ کیا۔
آج علامہ اقبال کے صاحبزادے جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال بتاتے ہیں کہ علامہ اقبال کا مرد مومن کا تصور دراصل وہ Superman ہے جسے Fredrick Neitsche نے اپنے فلسفے میں Ubermansch کے طور پر متعارف کرایا تھا۔ علامہ اقبال یہ سمجھتے تھے کہ جس قسم کی تنقیدNeitzsche نے عیسائیت پر کی، وہ اسلامی دنیا میں اس مسلمان سوچ کی بھی ہونی چاہیے جو ثقافت کی تنگ نظری میں دین سمجھنے کی کوشش کرتی آئی ہے اور انسان کی خودی کے سامنے سماج کے جنگلے کھڑے کرتی ہے۔
بشکریہ : سوشلزم فار پاکستان
میٹرک پاس کرنے کے بعد مجھے کراچی کے مشہور کامرس کالج میں داخلہ ملا۔ یہ اپنے زمانے کے ان آخری کالجوں میٕں سے تھا جہاں Co education تھی اور اپنے تعلیمی معیار کے علاوہ وہاں دستیاب "حسن" کی وجہ سے بھی یہ کالج لڑکوں میں بہت مقبول ہوا کرتا تھا۔
مگر جس سال میں نے اس کالج میں کلاسز لینا شروع کیں تو اسی سال انتظامیہ نے Co-education ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی کلاسیں الگ کر دی گئیں، کالج کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا اور دونوں حصوں کے بیچ میں ایک لوہے کا جنگلا لگا دیا گیا۔
اس جنگلے کو ہم لوگ پیار سے "سماج کا جنگلا" کہا کرتے تھے۔ اس جنگلے میں سے لڑکیوں سے بات کرنا یا ان کو پھول پیش کرنا تو ممکن نہ تھا مگر ان کو دیکھا ضرور جا سکتا تھا۔ بالکل ایسے ہی جیسے چڑیا گھر میں انسان جانوروں کو دیکھتا ہے۔
مشرقی تہذیب کے اس جنگلے کے خلاف لڑکوٕ ں نے احتجاج بھی کیا اور بھوک ہڑتال بھی کی۔ لیکن جب مشرقی تہذیب باز نہیں آئی تو لڑکوں نے دیواروں پر احتجاجی نعرے لکھ لکھ کر کالج کا پینٹ برباد کر ڈالا۔
لڑکیوٕں کو بھی اپنے آپ کو "تڑوانے" کا اتنا شوق تھا کہ سب میک اپ کر کے آتی تھیں اور سماج کے جنگلے کے سامنے سے فیشن پریڈ کرتی ہوئی گزرا کرتی تھیٕں۔ حالانکہ کالج بہت بڑا تھا مگر تمام لڑکے اسی سماج کے جنگلے سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے تھے اور لڑکیوں کی فیشن پریڈ دیکھتے تھے۔
ایک بار ہمارے پرنسیپل صاحب نے ایک لڑکے کو جنگلے میں سے لڑکیوٕں کو تاڑتے ہوئے دیکھا تو بولے، "میاں یہ کوئی طریقہ ہے؟ کیا تمہارے گھر میٕں ماں بہنیں نہیں ہیں؟"
لڑکے نے جواب دیا، "سر! ماں بہنیں تو ہیں مگر بیوی نہیں ہے۔"
اس کے بعد وہ لڑکا کئی روز تک کالج میں نظر نہیں آیا۔ شاید پرنسپل صاحب نے اسے کچھ عرصے کے لیے معطل کر دیا تھا حالانکہ کہا اس نے سچ تھا۔
اس کے جملے کو اگر گستاخی کے بجائے حقیقت کے اظہار کے طور پر دیکھا جائے تو اس کا مدعا یہی تھا کہ میں شادی کرنا چاہتا ہوں، ایک خاندان آباد کرنا چاہتا ہوں اور آپ نے میرے اس مقصد کی راہ میں یہ سماج کا جنگلا کھڑا کر دیا ہے۔
ایک دن امتحان کے بعد بہت سی لڑکیاں کالج کی یونیفارم کے بجائے رنگ برنگ کپڑے پہن کر اپنے رپورٹ کارڈ وصول کرنے آئی تھیں۔ جنگلے کے اس پار فیشن پریڈ زوروں پر تھی سو اس رو کچھ زیادہ ہی لڑکے سماج کے جنگلے سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔
اس دن سماج کا جنگلا نوجوان نسل کا بوجھ نہ اٹھا سکا اور اس کی بنیادیں اکھڑ گیں۔ پھر خاندان آباد کرنے کے یہ تمام خواہش مند، جنگلے سمیت مشرقی تہذیب کے چبوترے پر جا گرے۔
اس "حادثے" کی آواز اس قدر زوردار تھی کہ تمام عوام کلاسوں سے باہر آگئی اور ہم سب نے ان لڑکوں کو پتلونوں پر سے دھول جھاڑتے ہوئے دیکھا اور ان کا خوب مذاق بھی اڑایا۔
اس کے بعد کالج کی انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ سماج کے جنگلے کی جگہ ایک پختہ دیوار ہونی چاہیے جسے لڑکے گرا نہ سکیں۔ اس فیصلے کے بعد لڑکوں نے لڑکیوٕں سے ملنے کے تمام ارادے ترک کر دیے اور فحش فلموں کو اپنا لیا۔ یہ فلمیں کراچی کے 'رینبو سینٹر' سے ملا کرتی تھیں اور ان سے مشرقی تہذیب کی ناک نہیں کٹتی تھی۔
انٹر پاس کرنے کے بعد جب میں کینیڈا گیا تو وہاں میری یونیورسٹی میں سماج کے جنگلے نہیں لگے ہوئے تھے۔ لڑکوں اور لڑکیوٕں کو آپس میں ملنے سے کوئی استاد نہیں روکتا تھا۔ وہ اکثر ساتھ گھومتے پھرتے نظر آتے تھے۔ میں نے جب پہلی بار اس قسم کا ماحول دیکھا تو مجھے لگا کہ یہ بنیادی طور پر وہی معاشرہ تھا جس کو ہم اپنے ہاں روکنا چاہتے تھے۔
اس وقت میں نے ارادہ کیا کہ میں یہاں چار سال گزار کر یہ دیکھوں گا کہ اگر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان میں سے سماج کا جنگلا نکال دیا جائے تو یہ دونوں ساتھ مل کر کس قسم کا معاشرہ وجود میں لاتے ہیں؟
ہمارے مشرقی بزرگ کہا کرتے تھے کے سماج کا جنگلا نہ ہو تو معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں، نسلیں برباد ہو جاتی ہیں۔ مگر کینیڈا کیوں تباہ نہیں ہوا؟ امریکہ کیوں تباہ نہیں ہوا؟ یہ سب قومں کیوں فنا نہیں ہوئیں؟
مشرقی تہذیب نے مجھے اتنی عقل ہی نہیں دی تھی کہ میں تہزیب کے بزرگوں سے یہ پوچھتا کہ آج آپ کیوں تباہ ہوئے ہیں؟ آپ کی نسلیں کیوں برباد ہوئی ہیں؟ اگر بجلی بند ہوتی ہے تو آپ کی ہوتی ہے، پانی بند ہوتا ہے تو آپ کا ہوتا ہے، دہشت گردی بڑھتی ہے تو وہ آپ کے ہاں بڑھتی ہے، لوگ بھوکے مرتے ہیں تو وہ بھی آپ کے ہاں مرتے ہیں۔ زلزلے اور سیلاب بھی آپ ہی کی ہاں آتے ہیں۔ مسائل دنیا میں ہر جگہ ہوتے ہیں مگر مشرقی تہذیب کے مسائل کی فہرست کچھ زیادہ لمبی نظر آتی ہے۔ وہ کون سی آسمانی یا انسانی آفت ہے جس سے آپ کو اس سماج کے جنگلے نے بچا یا ہو؟
تہذیب کا کمال یہ ہے کہ جن سوالات کا اس کے پاس جواب نہیں ہوتا یہ انہیں ذہنوں میں جنم ہی نہیں لینے دیتی۔ جب مشرقی تہذیب سے سماج کے جنگلے کے فوائد کے بارے میں بہت زیادہ سوالات کیے تو وہ بولی کہ اللہ میاں کو سماج کے جنگلے بہت پسند ہیں۔
جو سوال یہاں پیدا ہونا چاہیے وہ یہ کہ فرنگی ان سماج کے جنگلوں کی پرواہ کیے بغیر جب حیا کے دوپٹوں کو پیروں تلے روند کر انسان پیدا کرتا ہے تو اللہ میاں اسے آئن اسٹائن عطا کرتے ہیں، نیوٹن اور سٹیفن ہاکنگ بخشتے ہیں۔
اور مشرقی تہذیب جب سماج کے جنگلے گاڑھ گاڑھ کے انسان پیدا کرتی ہے تو یہ کرپشن اور بے ایمانی کے تمام عالمی ریکارڈ توڑ ڈالتے ہیں۔ میں نے اللہ میاں سے بار بار پوچھا کہ اللہ میاں! آپ کو یہ سماج کا جنگلا کیوں اچھا لگتا ہے؟ کیا آپ نے امریکہ نہیں دیکھا؟ کیا آپ نے کینیڈا نہیں دیکھا؟ آپ کو ایسے معاشرے کیوں پسند ہیں جہاں بنیادی انسانی خواہشات کو کچل دیا گیا ہو اور انسان کی primary biological drives کے رستے میں سماج کے جنگلے لگا دیے گئے ہوں؟ کی سال میں نے اللہ میاں سے یہ سوال کیا مگر آسمان سے کوئی جواب نہیں آیا۔ اس کے بعد ایک دن مجھے زور دار آواز سنائی دی۔
جھوٹ بولتی ہے تم سے یہ مشرقی تہذیب !
یہ آواز اتنی زوردار تھی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ یہ آواز Fredrick Nietzsche کی تھی۔ یہ وہ جرمن فلسفی تھے جنہوں نے عیسائیت سے وہی سوال کیا تھا جو میں اپنے اللہ میاں سے کر رہا تھا۔ یعنی عیسائی مذہب کا خدا اجازتیں دے کر بھی تو اپنا وجود ثابت کر سکتا ہے۔ پھر آخر اس نے ممانعت اور impulse deprivation کی تعلیم کیوں دی؟ سماج کے جنگلے کیوں لگائے؟
یہ Nietzsche کا عیسائیت پر کتنا شدید حملہ تھا، اس کا اندازہ آپ ان کی اپنی تحریروں سے ہی لگا سکتے ہیں۔
Christianity was from the beginning, essentially and fundamentally, life's nausea and disgust with life, merely concealed behind, masked by, dressed up as, faith in another" or "better" life.
Nietzsche's The Birth of Tragedy, p.23, Walter Kaufman۔
مزے کی بات یہاں یہ ہے کہ علامہ اقبال اپنی اسلامی سوچ میں Fredrick Nietzsche سے بہت متاثر رہے تھے۔ Neitzsche کی دو کتابوں Will to Power اور Thus Spoke Zarathustra نے علامہ اقبال کی سوچ پر اتنے گہرے اثرات چھوڑے تھے کہ علامہ نے اپنے مرد مومن کا تصور بھی انہی سے اخذ کیا۔
آج علامہ اقبال کے صاحبزادے جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال بتاتے ہیں کہ علامہ اقبال کا مرد مومن کا تصور دراصل وہ Superman ہے جسے Fredrick Neitsche نے اپنے فلسفے میں Ubermansch کے طور پر متعارف کرایا تھا۔ علامہ اقبال یہ سمجھتے تھے کہ جس قسم کی تنقیدNeitzsche نے عیسائیت پر کی، وہ اسلامی دنیا میں اس مسلمان سوچ کی بھی ہونی چاہیے جو ثقافت کی تنگ نظری میں دین سمجھنے کی کوشش کرتی آئی ہے اور انسان کی خودی کے سامنے سماج کے جنگلے کھڑے کرتی ہے۔
بشکریہ : سوشلزم فار پاکستان
Wednesday, September 14, 2016
Subscribe to:
Posts (Atom)









